سرسی، 30؍ ستمبر (ایس او نیوز) آج کل ملک کی کئی ریاستوں میں کانگریس پارٹی سیاسی بحران سے گزر رہی ہے ۔ ضلع شمالی کینرا بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے ۔ یہاں بھی پارٹی کے اندر پائی جانے والی سیاسی رقابتیں پھر سے سر اٹھانے لگی ہیں ۔
تازہ ترین واقعہ سرسی میں منعقدہ کانگریس پارٹی کے پروگرام میں سامنے آیا جہاں سابق وزیر اور موجودہ ایم ایل اے آر وی دیشپانڈے اور ایم ایل سی ایس ایل گھوٹنیکر کے حامیوں کے درمیان پارٹی لیڈران کی موجودگی میں ہی زبانی جھڑپ ہوئی اور دونوں گروہ آپس میں دست و گریباں ہونے کے قریب پہنچ گئے ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق سرسی کے امبیڈکر بھون میں پارٹی کی طرف سے راجیو گاندھی پنچایت راج ضلع یونٹ کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا ۔ دیشپانڈے کی فرزند پرشانت دیشپانڈے اور کانگریس ضلع صدر بھیمنا نائک کے علاوہ مہمان خصوصی کے طور پر ایم ایل سی گھوٹنیکر بھی اس اجلاس میں موجود تھے ۔
بتایا جاتا ہے کہ جب ایل ایس گھوٹنیکر نے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کی پالیسیوں پر تنقید کی اور پنچایت راج کے موضوع پر انہیں معلومات نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے اپنی کرسی پر واپس چلے گئے ۔ اس موقع پر اسٹیج کے سامنے پہلی صفوں میں بیٹھے ہوئے آر وی دیشپانڈے کے حامیوں نے دیپشپانڈے کی جئے جئے کار کے نعرے لگانے شروع کیے۔ اس کے رد عمل میں گھوٹنیکر کے حامیوں نے اپنے لیڈر کی حمایت میں جوابی نعرے لگانے شروع کیے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے زبانی جھڑپ بڑھتی گئی ۔ پرشانت دیشپانڈے اور بھیمنا نے اسٹیج سے اتر کر دونوں گروہوں کو خاموش کروانے کی پوری کوشش کی مگر معاملہ بے قابو ہوتا دیکھ کر ضلع صدر بھیمنا نے اسٹیج پر جا کر مائک سنبھالا اور راجیو گاندھی، سونیا گاندھی، راہل گاندھی وغیرہ کے ناموں پر جئے جئے کار کے نعرے لگانے شروع کیے اور حاضرین کو گروہی تصادم میں الجھنے سے بچا لیا ۔ اس کے باوجود پورے اجلاس کے دوران دونوں گروہوں میں فقرے بازیاں چلتی رہیں ۔
بتایا جاتا ہے کہ دیشپانڈے کے حامی اراکین گھوٹنیکر سے اس بات پر خفا ہیں کہ انہوں نے ابھی سے ہی خود کو آئندہ الیکشن کے لئے پارٹی امیدوار کے طور پر پیش کرنا شروع کیا ہے ۔ اس پس منظر میں دیشپانڈے حامیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ گھوٹنیکر کو اس حلقہ سے دو مرتبہ ایم ایل سی بنانا مہنگا پڑ رہا ہے ۔
اس واقعہ کے تعلق سے کانگریس ضلع صدر بھیمنا نائک کا کہنا ہے کہ " ہماری پارٹی کے کارکنان میں کوئی آپسی اختلاف نہیں ہے ۔ اجلاس کے دوران کوئی جھگڑا نہیں ہوا ۔ سینئر لیڈر دیشپانڈے اور دیشپانڈے کے حامیوں نے اپنے اپنے لیڈروں کی حمایت میں نعرے بازی کی تھی ۔ اس واقعہ کے تعلق سے پارٹی کے ریاستی لیڈروں کو جانکاری دوں گا ۔ ہلیال حلقہ میں جو سیاسی الجھنیں ہیں انہیں پارٹی کے لیڈر حل کرلیں گے ۔"